مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الأمير يؤخر الصلاة عن الوقت باب: اگر کوئی امیر نماز کو وقت سے مؤخر کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 7800
٧٨٠٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود وعلقمة قالا: قال عبد اللَّه: إنه سيكون عليكم أمراء يؤخرون الصلاة عن وقتها و (يخنقونها) (١) إلى شرق الموتى، فإذا رأيتموهم قد فعلوا ذلك فصلوا في بيوتكم، ثم اجعلوا صلاتكم سبحة (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ عنقریب تمہارے ایسے امراء ہوں گے جو نمازوں کو ان کے وقت سے مؤخر کیا کریں گے اور انہیں مردوں کی طرح گھونٹا کریں گے۔ جب تم انہیں ایسا کرتا دیکھو تو اپنے گھروں میں نماز ادا کرو اور ان کے ساتھ نفل کی نیت سے نماز پڑھو۔
حواشی
(١) في [أ، ص، هـ]: (يحنقونها).