مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الأمير يؤخر الصلاة عن الوقت باب: اگر کوئی امیر نماز کو وقت سے مؤخر کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 7799
٧٧٩٩ - حدثنا وكيع ثنا سفيان عن منصور عن هلال بن يساف عن (أبي) (١) المثنى الحمصي عن أبي (أُبي) (٢) (ابن) (٣) (امرأة) (٤) (عبادة بن الصامت) (٥) ⦗١٣٢⦘ (عن) (٦) عبادة ابن الصامت قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنها ستكون عليكم أمراء فتشغلهم أشياء عن الصلاة حتى يوخروها عن وقتها فصلوها لوقتها"، فقال رجل: يا رسول اللَّه (إن أدركتها) (٧) معهم (أصلي معهم) (٨) قال: "نعم إن شئت" (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب تمہارے ایسے امراء ہوں گے جو اپنی مصروفیات کی وجہ سے نمازوں کو ان کے وقت سے مؤخر کیا کریں گے، تم نمازوں کو ان کے وقت میں پڑھنا۔ ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ ! اگر میں ان کا زمانہ پاؤں تو کیا میں ان کے ساتھ نماز پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگر تم چاہو توپڑھ لو۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ص، ز، ك، هـ]: (ابن).
(٢) في [أ، ب، هـ، ص، ك، ز]: (ابن).
(٣) في [ز، هـ]: (أبي).
(٤) كذا في: [ز]، وفي [هـ]: (أبزى)، وفي [أ، ب، ك]: (أبزاة).
(٥) سقط من: [هـ، ز، ص].
(٦) سقط من: [ز].
(٧) في [أ]: (إني أدركت)، وفي [ز]: (إن أدركها).
(٨) زيادة من: [أ، ب، ك، ز].