مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الصلاة في الموضع الذي (قد) خسف به باب: اس جگہ نماز پڑھنے کا بیان جسے عذاب سے دھنسا دیا گیا ہو
حدیث نمبر: 7764
٧٧٦٤ - حدثنا وكيع ثنا المغيرة بن أبي (الحر) (١) الكندي عن حجر بن عنبس الحضرمي قال: خرجنا مع علي إلى النهروان حتى إذا كنا ببابل حضرت صلاة العصر، قلنا: الصلاة فسكت ثم قلنا الصلاة فسكت، فلما خرج منها صلى ثم قال: ما كنت أصلي بأرض خسف بها ثلاث مرات (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجر بن عنبس حضرمی کہتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہروان کی طرف نکلے جب ہم بابل پہنچے تو عصر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ ہم نے کہا نماز کا وقت ہوگیا۔ وہ خاموش رہے۔ پھر ہم نے کہا نماز کا وقت ہوگیا۔ وہ خاموش رہے۔ جب وہ بابل سے نکل گئے تو اس وقت انہوں نے نماز پڑھی۔ پھر تین مرتبہ فرمایا کہ میں اس جگہ نماز نہیں پڑھنا چاہتا تھا جس زمین میں دھنسایا گیا ہے۔
حواشی
(١) في [ك]: (الحرا).