حدیث نمبر: 7703
٧٧٠٣ - حدثنا قطن بن عبد اللَّه عن أبي غالب قال: رأيت أبا أمامة يأخذ القمل ويلقيه في المسجد فقلت: يا أبا أمامة تأخذ (القمل) (١) وتلقيه في المسجد قال: ﴿أَلَمْ ⦗١٠٩⦘ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا (٢٥) (أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا) (٢)﴾ (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو غالب کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابو امامہ جوئیں پکڑ کر انہیں مسجد میں ڈال رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا اے ابو امامہ ! آپ جوئیں مسجد میں کیوں ڈال رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : کیا ہم نے زمین کو زندہ و مردہ کے لئے کفایت کرنے والا نہیں بنایا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ك، ز].
(٢) في [ز، ك]: زيادة ﴿أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا﴾.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7703
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو غالب صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٢٧٢)، وعبد الرزاق (١٧٤٥)، والطبراني (٨٠٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7703، ترقيم محمد عوامة 7577)