مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كرهه باب: جن حضرات نے نماز کے لئے جاتے ہوئے جلدی جلدی چلنے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 7605
٧٦٠٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن داود بن فراهيج، قال: حدثني مولاي سفيان بن زياد أنه كان ينطلق إلى المسجد وهو يستعجل، قال: فلحقني الزبير بن العوام، فقال: اقصد في مشيك، فإنك في صلاة، لن تخطو خطوة إلا رفع اللَّه (لك) (١) بها درجة وحط عنك بها خطيئة (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان بن زیاد فرماتے ہیں کہ میں مسجد کی طرف تیزی سے چل کر جارہا تھا کہ حضرت زبیر بن عوام نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا کہ درمیانی چال چلو، کیونکہ تم اس وقت نماز کی حالت میں ہو، جب بھی تم کوئی قدم رکھتے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور تمہارے ایک گناہ کو معاف فرماتا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ك، ز] زيادة: (لك).
(٢) مجهول؛ لجهالة سفيان بن زياد.