مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من رخص في الركعتين بعد العصر باب: جن حضرات نے عصر کے بعد دورکعت پڑھنے کی اجازت دی ہے
حدیث نمبر: 7547
٧٥٤٧ - حدثنا عفان قال: نا أبو عوانة قال: (ثنا) (١) إبراهيم (بن) (٢) محمد بن المنتشر عن أبيه أنه كان يصلي بعد العصر ركعتين فقيل له فقال: لو لم أصلهما إلا أني رأيت مسروقا يصليهما لكان ثقة ولكني سألت عائشة فقالت: كان رسول اللَّه ﷺ لا يدع ركعتين قبل الفجر وركعتين بعد العصر (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن محمد بن منتشر فرماتے ہیں کہ ان کے والد عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ان سے اس پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں یہ دو رکعتیں نہ پڑھتاتو اچھا ہوتا لیکن میں نے حضرت مسروق کو یہ دو رکعتیں پڑھتے دیکھا۔ پھر میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر سے پہلے اور عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہ چھوڑتے تھے۔
حواشی
(١) في [ك]: (نا).
(٢) في [أ]: (عن).