مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: لا صلاة بعد الفجر باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
٧٥٤٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن يزيد بن طلق عن عبد الرحمن بن (البيلماني) (١) عن عمرو بن (عبسة) (٢) قال: قلت يا رسول اللَّه هل من ساعة أقرب إلى اللَّه من ساعة فقال: نعم جوف الليل فصل ما بدا لك حتى تصلي الصبح، ثم (انهه) (٣) حتى تطلع الشمس وما دامت كأنها (عجفة) (٤) حتى تنتشر ثم صل ما بدا لك حتى [يقوم العمود على ظله، ثم انهه حتى تزول الشمس فإن جهنم (تسجر) (٥) نصف النهار ثم صل ما بدا لك حتى] (٦) تصلي العصر ثم انهه حتى تغرب الشمس فإنها تطلع بين قرني شيطان وتغرب بين قرني شيطان (٧).حضرت عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب گھڑی کون سی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ رات کا آخری حصہ۔ تم اس وقت سے فجر کی نماز تک جتنی چاہو نماز پڑھو۔ پھر سورج طلوع ہونے کے بعد اس وقت تک نماز سے رکے رہو جب تک سورج چھوٹی کمان کی طرح ہو۔ جب وہ پورا ہوجائے تو نماز پڑھ لو۔ پھر اس وقت تک نماز پڑھ سکتے ہو جب تک سورج کا سایہ بالکل سیدھا نہ ہوجائے۔ اس وقت سے زوال شمس تک نماز سے رکے رہو۔ اس لئے کہ نصف نہار کے وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے۔ پھر عصر کی نماز تک جو چاہو نماز پڑھتے رہو، عصر پڑھنے کے بعد مغرب تک نماز سے رکے رہو کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے اور انہی کے درمیان غروب ہوتا ہے۔