مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الرجل يصلي الصبح ثم (يستبين) له أنه صلى بليل باب: اگر کوئی آدمی فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہو اور پھر اسے معلوم ہو کہ ابھی فجر طلوع نہیں ہوئی تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 7393
٧٣٩٣ - حدثنا هشيم قال: حدثنا حصين عن إبراهيم قال: كانت (بي) (١) سعلة فخرجت لصلاة الصبح فسمع المؤذن سعلتي فظن (أن) (٢) قد أصبحنا فأقام الصلاة فصلينا ثم نظرنا فإذا الفجر لم يطلع (فأعدنا) (٣) الصلاة.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے کھانسی لاحق تھی کہ میں فجر کی نماز کے لئے نکلا، مؤذن نے میری کھانسی کی آواز سنی اور خیال کیا کہ صبح ہوچکی ہے۔ اس نے اقامت کہہ دی اور ہم نے فجر کی نماز پڑھ لی۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ابھی تو فجر طلوع نہیں ہوئی، لہٰذا ہم نے طلوع فجر کے بعد دوبارہ نماز پڑھی۔
حواشی
(١) في [هـ]: (لي).
(٢) في [أ]: (أنه).
(٣) في [أ]: (فأعاد).