مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الرجل يصلي الصبح ثم (يستبين) له أنه صلى بليل باب: اگر کوئی آدمی فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہو اور پھر اسے معلوم ہو کہ ابھی فجر طلوع نہیں ہوئی تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 7392
٧٣٩٢ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا منصور عن الحسن قال: شكوا في طلوع الفجر في عهد ابن عباس (قال) (١): فأمر مؤذنه فأقام الصلاة ثم تقدم فصلى بهم ⦗٤٣⦘ (واستفتح) (٢) البقرة حتى ختمها ثم ركع ثم سجد ثم قام فاستفتح آل عمران حتى ختمها ثم ركع ثم (و) (٣) سجد قال: وأضاء لهم الصبح (٤).مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس کے زمانے میں لوگوں کو طلوع فجر کے بارے میں شک ہوا۔ انہوں نے اپنے مؤذن کو حکم دیا اس نے دوبارہ اقامت کہی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ انہوں نے پوری سورة البقرۃ پڑھی، پھر رکوع کیا پھر سجدہ کای پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے اور پوری سورة آل عمران پڑھی۔ پھر رکوع کیا اور پھر سجدہ کیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو روشنی ہوچکی تھی۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ك]: (فقال).
(٢) في [ب]: استفتح
(٣) في [هـ]: (ثم).