مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الرجل يصلي الصبح ثم (يستبين) له أنه صلى بليل باب: اگر کوئی آدمی فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہو اور پھر اسے معلوم ہو کہ ابھی فجر طلوع نہیں ہوئی تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 7391
٧٣٩١ - حدثنا ابن علية عن أيوب (عن) (١) نافع (أن) (٢) ابن عمر أعاد صلاة الصبح (بجمع) (٣) في يوم ثلاث مرات (صلى) (٤) فإذا هو قد صلى بليل ثم أعادها فإذا هو قد صلى بليل ثم أعادها الثالثة (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دن میں فجر کی نماز تین مرتبہ دہرائی۔ وہ نماز سے فارغ ہوئے تو معلوم ہوا کہ انہوں نے طلوع فجر سے پہلے نماز پڑھ لی ہے۔ لہٰذا نماز کا اعادہ کیا۔ پھر نماز پڑھی اور فارغ ہوئے تو معلوم ہوا کہ ابھی بھی فجر طلوع نہیں ہوئی تھی، چناچہ انہوں نے تیسری مرتبہ نماز پڑھی۔
حواشی
(١) في [ب]: (أن).
(٢) في [هـ]: (عن).
(٣) في [ط]: (يجمع).
(٤) في [أ، ب] زيادة: (صلى)، وفي [ك] زيادة: (صل).