مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كره النوم بين المغرب والعشاء باب: مغرب اور عشاء کے درمیان سونے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 7371
٧٣٧١ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن (١) الهيثم المرادي عن ابن عمر أن رجلًا سأله عن (ذلك) (٢) فقال: صل ثم نم (٣) ثم قال له: ذلك ثلاثًا فقال في الثالثة: صل ثم نم، (٤) فلا نامت (عينك) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہیثم مرادی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے عشاء سے پہلے سونے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نماز پڑھ کر سونا چاہئے۔ اس نے تین مرتبہ یہی سوال کیا انہوں نے تینوں مرتبہ یہی جواب دیا۔ تیسری مرتبہ اس سے یہ فرمایا کہ نماز پڑھ کر سو نا چاہئے البتہ اگر لیٹو تو تمہاری آنکھ نہیں لگنی چاہئے۔
حواشی
(١) في [ط، ك، هـ]: زيادة (أبي)، وانظر: تهذيب التهذيب ١٢/ ٢٩٤.
(٢) في [أ، ب، ك]: (ذاك).
(٣) في [ك، ز]: زيادة (قال).
(٤) في [هـ]: زيادة (وإن نمت).
(٥) في [هـ]: (عيناك).