حدیث نمبر: 7358
٧٣٥٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن موسى بن أبي عائشة عن عبيد اللَّه ابن عبد اللَّه بن عتبة قال: دخلت على عائشة فقلت لها ألا (تحدثيني) (١) عن مرض رسول اللَّه ﷺ قالت: بلى ثقل رسول اللَّه ﷺ فقال: "أصلى الناس؟ " (فقلت) (٢): ⦗٣٥⦘ لا، هم ينتظرونك يا رسول اللَّه (فقال): "ضعوا لي ماء في المخضب"، قالت: ففعلنا فاغتسل ثم ذهب لينوء فأغمي عليه، ثم أفاق فقال: "أصلى الناس؟ " فقلنا (لا) (٣) هم ينتظرونك [(فقال) (٤): "ضعوا لي ماء في المخضب"، قالت: ففعلنا فاغتسل ثم ذهب لينوء فأغمي عليه، ثم أفاق فقال: "أصلى الناس؟ " فقلنا: هم ينتظرونك] (٥) يا رسول اللَّه والناس (عكوف) (٦) في المسجد ينتظرون رسول اللَّه ﷺ (لصلاة) (٧) العشاء الآخرة، قالت: فأرسل رسول اللَّه ﷺ إلى أبي بكر أن صل بالناس (فأتاه الرسول فقال: إن رسول اللَّه ﷺ يأمرك أن تصلي بالناس) (٨) فقال أبو بكر وكان رجلًا رقيقًا: يا عمر صل بالناس، فقال له عمر: أنت أحق بذلك، فصلى بهم أبو بكر تلك الأيام قالت: ثم إن رسول اللَّه ﷺ وجد (من) (٩) نفسه خفة فخرج بين رجلين لصلاة الظهر، وأبو بكر يصلي بالناس، قالت: فلما رآه أبو بكر ذهب ليتاخر فأومأ إليه النبي ﷺ أن لا (يتأخر) (١٠) وقال لهما: "أجلساني إلى جنبه"، فأجلساه إلى جنب أبي بكر فجعل أبو بكر يصلي (وهو) (١١) (قائم) (١٢) بصلاة النبي ﷺ والناس (يصلون) (١٣) بصلاة أبي بكر والنبي ﷺ قاعد، قال عبيد اللَّه: فدخلت ⦗٣٦⦘ على عبد اللَّه بن عباس فقلت: ألا أعرض عليك ما حدثتني (به) (١٤) عائشة (من) (١٥) مرض رسول اللَّه ﷺ فقال: هات (فعرضت) (١٦) عليه حديثها فما أنكر منه شيئا (١٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبید اللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا آپ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات کے بارے میں بتائیں گی ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت مبارکہ بہت بوجھل ہوگئی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ میں نے کہا نہیں، ابھی نہیں پڑھی۔ اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میرے لئے برتن میں پانی رکھو۔ چناچہ ہم نے ایسا ہی کیا۔ آپ نے غسل فرمایا، پھر آپ مشکل سے اٹھے، لیکن آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی پھر کچھ دیر بعد افاقہ ہوا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی۔ ہم نے کہا نہیں وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میرے لئے برتن میں پانی رکھو۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ آپ نے غسل فرمایا، پھر آپ مشکل سے اٹھے، لیکن آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی پھر کچھ دیر بعد افاقہ ہوا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی۔ ہم نے کہا نہیں، اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ لوگ مسجد میں رکے ہوئے عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے آپ کے منتظر تھے۔ پھر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو پیغام بھجوایا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو نماز پڑھنے کا حکم دے رہے ہیں۔ حضرت ابوبکر ایک نرم دل آدمی تھے ، انہوں نے حضرت عمر سے کہا کہ آپ نماز پڑھائیں۔ حضرت عمر نے کہا کہ آپ اس کے زیادہ حقد ار ہیں۔ چناچہ ان دنوں میں حضرت ابوبکر نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر آپ کی طبیعت مبارکہ میں کچھ بہتری آئی تو آپ ظہر کی نماز کے لئے دو آدمیوں کے درمیان ان کے سہارے سے چلتے ہوئے مسجد تشریف لے گئے۔ اس وقت ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب حضرت ابوبکر نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ نے اشارے سے انہیں پیچھے ہٹنے سے منع کیا اور ان دونوں آدمیوں سے کہا کہ مجھے ان کے ساتھ بٹھا دو ۔ ان دونوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے ساتھ بٹھا دیا۔ حضرت ابوبکر کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کررہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی نماز کی اقتداء کررہے تھے۔ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات کا وہ واقعہ سناؤں جو مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں بیان کرو۔ میں نے بیان کیا تو انہوں نے اس واقعہ میں سے ایک بات کا بھی انکار نہیں کیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (تحدثني).
(٢) في [أ، ب، ك]: (فقالت).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (قال).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٦) في [أ]: (عاكفون).
(٧) في [أ]: (صلاة).
(٨) سقط من: [أ، ب، ك].
(٩) في [ط، هـ]: (في).
(١٠) في [ب]: (تتأخر).
(١١) سقط من: [أ، ب، ك].
(١٢) في [أ، ب]: (قائمًا).
(١٣) سقط من: [أ، ب، ك].
(١٤) سقط من: [ز].
(١٥) في [ز]: (عن).
(١٦) في [ب، ك]: (فعرضته).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7358
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٦٨٧)، ومسلم (٤١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7358، ترقيم محمد عوامة 7246)