مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في فعل النبي ﷺ باب: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ کی امامت میں نماز پڑھنا
٧٣٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سفيان بن حسين عن الزهري عن أنس قال: لما مرض رسول اللَّه ﷺ في مرضه الذي مات فيه أتاه بلال فآذنه بالصلاة فقال: "يا بلال قد بلغت فمن شاء فليصل ومن شاء فليدع"، فقال يارسول اللَّه فمن يصلي بالناس؟ قال: "مروا أبا بكر فليصل بالناس"، فلما تقدم أبو بكر رفعت الستور عن رسول اللَّه ﷺ فنظرنا إليه كأنه ورقة بيضاء عليه خميصة، فظن أبو بكر أنه يريد الخروج فتأخر، وأشار إليه رسول اللَّه ﷺ أن صل مكانك، فصلى أبو بكر وما رأينا رسول اللَّه ﷺ حتى مات من يومه (١).حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات میں حضرت بلال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے حاضر ہوئے تو آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے بلال ! تم نے پیغام پہنچا دیا اب جو چاہے نماز پڑھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ! تو پھر لوگوں کو نماز کون پڑھائے ؟ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ جب حضرت ابوبکر نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرۂ مبارک کے خیمے اٹھائے گئے اور آپ وہاں سے یوں تشریف لائے کہ آپ کا چہرہ مبارک چاندی کے ٹکڑے کی طرح محسوس ہورہا تھا۔ آپ پر سیاہ رنگ کی ایک چادر تھی۔ جب حضرت ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا توس مجھے کہ شاید آپ تشریف لانا چاہتے ہیں لہٰذا وہ مصلے سے پیچھے ہٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ نماز پڑھاتے رہیں۔ چناچہ حضرت ابوبکر نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا اور اسی دن آپ کا وصال ہوگیا۔