حدیث نمبر: 7348
٧٣٤٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا محمد بن قيس عن علي بن (مدرك) (١) أن معاذا لما قدم اليمن كان يعلم النخع، فقال لهم: إذا رأيتموني صنعت (في الصلاة شيئًا) (٢) فاصنعوا مثله، فلما سجد أضر بعينيه غصن شجرة فكسره في الصلاة فعمد كل رجل منهم إلى غصن في الصلاة فكسره، فلما صلى قال: (إني) (٣) إنما كسرته لأنه أضر بعيني حين سجدت، وقد أحسنتم فيما أطعتم (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ بن مدرک فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ جب یمن آئے تو وہاں کے لوگوں کو علم سکھاتے ہوئے فرمایا کہ مں ہ جس طرح نماز پڑھوں گا تم نے بھی اسی طرح نماز پڑھنی ہے۔ چناچہ جب وہ سجدے میں جانے لگے تو درخت کی ایک ٹہنی ان کی آنکھ میں لگی، انہوں نے اس ٹہنی کو توڑ دیا تو وہ سب لوگ درخت کی طرف لپکے اور اس کی ٹہنیوں کو توڑنے لگے۔ جب حضرت معاذ نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا کہ میں نے تو ٹہنی اس لئے توڑی تھی کیونکہ اس نے سجدے میں جاتے ہوئے میری آنکھ میں تکلیف پہنچائی تھی۔ البتہ تم نے جس اطاعت سے کام لیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (مبارك).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ] (شيئًا في الصلاة).
(٣) سقط من: [ز].
(٤) منقطع؛ علي لم يدرك معاذًا، ذكره ابن قتيبة في غريب الحديث بهذا الإسناد ٢/ ٢٤٤.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7348
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7348، ترقيم محمد عوامة 7236)