حدیث نمبر: 7330
٧٣٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن يحيى بن سعيد عن (عبد اللَّه) (١) بن هبيرة أن أسيد بن حضير كان يؤم (قومه) (٢) بني عبد الأشهل وأنه اشتكى فخرج إليهم بعد (شكواه) (٣) فقالوا له: تقدم قال: لا أستطيع أن أصلي قالوا: لا يؤمنا أحد غيرك ما دمت، فقال: اجلسوا فصلى بهم جلوسا (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبید اللہ بن ہبیرہ کہتے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر اپنی قوم بنو عبد الاشہل کی امامت کرایا کرتے تھے۔ وہ ایک مرتبہ بیمار ہوگئے اور اپنی بیماری کے بعد جب آئے تو لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نماز پڑھانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ لوگوں نے کہا کہ جب تک آپ ہیں ہمیں آپ کے علاوہ کوئی نماز نہیں پڑھائے گا۔ حضرت اسید نے ان سے کہا کہ پھر تم سب بیٹھ جاؤ اور انہوں نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی۔

حواشی
(١) في [ك]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [أ، ب، ك] زيادة: (قومه).
(٣) في [أ، ك]: (شكوه).
(٤) منقطع؛ ابن هبيرة لا يروي عن أسيد بن خضير.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7330
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7330، ترقيم محمد عوامة 7218)