مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الإمام يصلي جالسا باب: اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کیا کریں؟
٧٣٢٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: صرع النبي ﷺ من فرس له (فوقع) (١) على جذع نخلة فانفكت قدمه فدخلنا عليه نعوده وهو يصلي في مشربة لعائشة فصلينا بصلاته (ونحن قيام ثم دخلنا عليه مرة أخرى وهو يصلي جالسا فصلينا بصلاته) (٢) ونحن قيام فأوما إلينا أن اجلسوا فلما صلى قال: "إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا صلى قائما فصلوا قياما وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا ولا تقوموا وهو جالس كما يفعل أهل فارس (بعظمائها) (٣) " (٤).حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ گھوڑے سے نیچے گرے اور کھجور کے ایک تنے پر لگے جس سے آپ کے پاؤں میں چوٹ آگئی۔ ہم آپ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک کمرے میں بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کھڑے کھڑے آپ کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کردی۔ پھر ہم دوسری مرتبہ آپ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کھڑے ہوکر آپ کی اقتداء شروع کردی تو آپ نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ جب آپ نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا کہ امام اس لئے بنایا جاتا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے۔ جب وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ جب وہ بیٹھا ہو تو تم کھڑے مت ہو جیسا کہ اہل فارس اپنے قابل تعظیم لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں۔