مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الإمام يصلي جالسا باب: اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کیا کریں؟
٧٣٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري قال: سمعت أنسا قال: سقط النبي ﷺ عن فرس فجحش شقه الأيمن فدخلنا عليه نعوده فحضرت الصلاة فصلى بنا قاعدا فصلينا وراءه قعودًا فلما قضى الصلاة قال: "إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا كبر فكبروا، وإذا ركع فاركعوا، وإذا قال: سمع اللَّه لمن حمده فقولوا: ربنا ولك الحمد وإذا صلى قاعدًا فصلوا قعودًا أجمعون" (١).حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑے سے گرے اور آپ کا دایاں پہلو زخمی ہوگیا، ہم آپ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے تو نماز کا وقت ہوگیا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا کہ امام اس لئے بنایا جاتا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم رَبَّنَا وَلَک الْحَمْدُ کہو۔ جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔