مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في تسمية (الرجل) في القنوت باب: قنوت میں لوگوں کے نام لینے کا بیان
حدیث نمبر: 7234
٧٢٣٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن إسحاق (١) عن عمران بن (أبي) (٢) أنس عن حنظلة بن علي الأسلمي عن خفاف بن (إيماء) (٣) بن رحضة ⦗٨⦘ الغفاري قال: صلى بنا رسول اللَّه ﷺ الفجر فلما رفع رأسه من الركعة الآخرة قال: "لعن اللَّه لحيانًا ورعلًا وذكوانًا وعصيةً عصت اللَّه ورسوله، أسلم سالمها اللَّه، غفار غفر اللَّه لها"، ثم خر ساجدا فلما قضى الصلاة أقبل على الناس بوجهه فقال: "أيها الناس إني أنا لست قلت هذا، ولكن اللَّه قاله" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت خفاف بن ایماء بن رحضہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، جب آپ نے دوسری رکعت سے سر اٹھایا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے لحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ پر لعنت فرمائی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ اللہ تعالیٰ قبیلہ اسلم کو سلامتی عطا فرمائے اور قبیلہ غفار کی مغفرت فرمائے۔ پھر سجدے میں گرگئے، جب آپ نے نماز مکمل کرلی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اے لوگو ! یہ بات میں نے نہیں کی تھی بلکہ اللہ نے فرمائی ہے۔
حواشی
(١) في [ب]: (أخبره).
(٢) في [أ]: زيادة (عن عمران بن أنس).
(٣) في [ب]: (يمان).
(٤) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، أخرجه أحمد (١٦٥٧٠)، ومسلم (٦٧٩ و ٢٥١٧).