حدیث نمبر: 7214
٧٢١٤ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين قال: صليت الغداة ذات يوم وصلى خلفي عثمان بن زياد قال: فقنتُّ في صلاة الصبح (قال) (١): فلما قضيت (صلاتي) (٢) قال لي: ما قلت في قنوتك؟ قال: فقلت ذكرت هؤلاء الكلمات: (اللهم إنا نستعينك ونستغفرك، ونثني عليك الخير (كله) (٣) ولا نكفرك ونخلع ونترك من يفجرك، اللهم إياك نعبد ولك نصلي ونسجد وإليك نسعى ونحفد، نرجو رحمتك ونخشى عذابك (الجد، إن عذابك) (٤) بالكفار ملحق. فقال عثمان: كذا كان يصنع عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حصین فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن فجر کی نماز پڑھائی، میرے پیچھے عثمان بن زیاد نے بھی نماز پڑھی۔ میں نے نماز میں قنوت کے کلمات کہے ، جب میں نے نماز پوری کرلی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم نے قنوت میں کیا کہا تھا۔ میں نے کہا کہ میں نے یہ کلمات کہے تھے : اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، تجھ سے مغفرت مانگتے ہیں، تیری خیر کی تعریف کرتے ہیں، تیری ناشکری نہیں کرتے، جو تیری نافرمانی کرے اسے چھوڑتے ہیں اور اس سے دور ہوتے ہیں۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں، تیرے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ تیری طرف چلتے ہیں، تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں، تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں اور بیشک تیرا عذاب کافروں تک پہنچنے والا ہے۔ حضرت عثمان بن زیاد نے فرمایا کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان قنوت میں یہی کلمات کہا کرتے تھے۔

حواشی
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [هـ]: (صلواتي).
(٣) سقط من: [أ، ب، ك].
(٤) في [ط، هـ]: (إن عذابك الجد).
(٥) مجهول؛ لجهالة عثمان بن زياد.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7214
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7214، ترقيم محمد عوامة 7105)