٧٢١٣ - حدثنا حفص بن غياث عن ابن جريج عن عطاء عن عبيد بن (عمير) (١) قال: سمعت عمر يقنت في الفجر يقول: بسم اللَّه الرحمن الرحيم اللهم إنا نستعينك ونؤمن بك ونتوكل عليك، ونثني عليك الخير (كله) (٢) ولا (نكفرك) (٣)، ثم (قرأ) (٤): بسم اللَّه الرحمن الرحيم، اللهم إياك نعبد، ولك نصلي ونسجد، وإليك نسعى ونحفد نرجو رحمتك ونخشى عذابك، إن عذابك ⦗٥٤٣⦘ الجد (بالكافرين) (٥) ملحق، اللهم عذب كفرة أهل الكتاب (الذين) (٦) يصدون عن سبيلك (٧).حضرت عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھتے سنا۔ انہوں نے پہلے یہ کہا : بسم اللہ الرحمن الرحیم ، اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، تجھ پر ایمان لاتے ہیں، تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں، تیری خیر کی تعریف کرتے ہں ہ، ترمی ناشکری نہیں کرتے۔ پھر انہوں نے یہ پڑھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم، اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں، تیرے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ تیری طرف چلتے ہیں، تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں، تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں اور بیشک تیرا عذاب کافروں تک پہنچنے والا ہے۔ اے اللہ ! ان اہل کتاب کافروں کو عذاب میں مبتلا فرما جو تیرے راستے سے روکتے ہیں۔