مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان يوتر بركعة باب: جو حضرات ایک رکعت وتر پڑھا کرتے تھے
حدیث نمبر: 6980
٦٩٨٠ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا (يحيى) (١) بن سعيد وابن عون وغيرهما عن نافع عن ابن عمر أن رجلًا سأل النبي ﷺ عن صلاة الليل قال: "مثنى مثنى (فإذا أحسست الصبح -أو خشيت الصبح-) (٢) فصل (٣) ركعة توتر لك صلاتك" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تہجد کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں۔ جب تمہیں فجر طلوع ہونے کا اندیشہ ہو تو وتر کی ایک رکعت پڑھ لو۔
حواشی
(١) في [هـ]: (محمد).
(٢) في [أ]: (فإذا خشيت الصبح أو حسست الصبح)، وفي [ب]: (فإذا أسست) وفراغ.
(٣) في [هـ]: زيادة (لك).