مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في من كان يؤخر وتره باب: جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
حدیث نمبر: 6925
٦٩٢٥ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق (عن علقمة) (١) قال: صليت مع (عبد اللَّه) (٢) ليلة كلها فكان يرفع صوته يقرأ قراءة يسمع أهل المسجد ⦗٤٨٠⦘ يرتل ولا يرجع حتى إذا كان قبل أن يطلع الفجر بمقدار ما بين (أذان) (٣) المغرب إلى الانصراف منها أوتر (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ کے ساتھ رات کے ہر حصے میں وتر کی نماز پڑھی ہے۔ آپ اپنی آواز کو قراءت میں اتنا بلند کرتے کہ مسجد میں موجود سب لوگ سن سکتے تھے۔ آپ ترتیل سے پڑھتے تھے اور قراءت کو دہرا دہرا کر نہیں پڑھتے تھے۔ آپ فجر کے طلوع ہونے سے پہلے مغرب کی اذان سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک کے وقت کے برابر وتر کی نماز پڑھتے تھے۔
حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [ب]: (عبيد اللَّه).
(٣) في [ز]: (الآذان).
(٤) منقطع؛ أبو إسحاق لا يروي عن علقمة.