مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
حدیث نمبر: 6915
٦٩١٥ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) سفيان عن الزبير بن عدي عن إبراهيم قال: سألته عن الرجل يوتر ثم يستيقظ قال: يصلي مثنى، مثنى وكانوا يستحبون أن يكون آخر صلاتهم وترًا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو وتر پڑھ کر سو جائے پھر رات کو نماز کے لئے اٹھے تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ دو دو رکعتیں پڑھے۔ اور اسلاف اس بات کو مستحب قرار دیتے تھے کہ لوگوں کی آخری نماز وتر ہونی چاہئے۔
حواشی
(١) في [ب، ك] زيادة: (نا)، وفي [أ، ز]: (ثنا)، وسقط من: [هـ].