مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
حدیث نمبر: 6914
٦٩١٤ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: إذا أوتر الرجل من أول الليل ثم بدا له أن يصلي من آخر الليل فليصل ركعتين ركعتين حتى يصبح.مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھ لے، پھر اسے رات کے آخری حصہ میں نماز پڑھنے کا موقع ملے تو وہ صبح تک دو دو رکعتیں پڑھے۔