مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
حدیث نمبر: 6913
٦٩١٣ - حدثنا معتمر عن يونس عن (الحسن) (١) قال: إذا أوتر ثم قام وعليه ليل قال: يصلي (شفعًا، شفعًا) (٢).مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی نے وتر پڑھ لئے، پھر وہ اٹھا اور رات کا کچھ حصہ باقی تھا، اب وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ دو دو رکعتیں پڑھے گا۔
حواشی
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [أ، ز، ك]: (شفع شفع).