مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
حدیث نمبر: 6912
٦٩١٢ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا داود عن الشعبي قال: سألته عن الذي ينقض وتره فقال: إنما أمرنا بالإبرام ولم نؤمر بالنقض.مولانا محمد اویس سرور
حضرت داود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اپنے وتروں کو توڑ دے تو انہوں نے فرمایا کہ ہمیں جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے توڑنے کا حکم نہیں دیا گیا۔