مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
حدیث نمبر: 6911
٦٩١١ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم عن عائشة (أنها) (١) سئلت عن الذي ينقض وتره (فقالت) (٢): هذا يلعب (بوتره) (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی اپنے وتروں کو توڑ دیتا ہے ، اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ اپنے وتروں کے ساتھ کھیلتا ہے۔
حواشی
(١) في [أ]: (أنه).
(٢) في [ب]: (فقال).
(٣) في [ز، ك]: (وتره).
(٤) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عائشة.