حدیث نمبر: 6911
٦٩١١ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم عن عائشة (أنها) (١) سئلت عن الذي ينقض وتره (فقالت) (٢): هذا يلعب (بوتره) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی اپنے وتروں کو توڑ دیتا ہے ، اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ اپنے وتروں کے ساتھ کھیلتا ہے۔

حواشی
(١) في [أ]: (أنه).
(٢) في [ب]: (فقال).
(٣) في [ز، ك]: (وتره).
(٤) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عائشة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6911
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6911، ترقيم محمد عوامة 6809)