مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
حدیث نمبر: 6910
٦٩١٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان (عن أبي قيس) (١) قال: سألت علقمة فقال: إذا أوترت ثم قمت فاشفع بركعة حتى تصبح.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب وتر پڑھ کر سو جاؤ اور پھر اٹھو تو صبح تک ایک رکعت کے ساتھ ایک ملاؤ۔
حواشی
(١) سقط من: [ز].