مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
حدیث نمبر: 6909
٦٩٠٩ - حدثنا هشيم عن الشيباني عن أبي قيس قال: لقيت علقمة فذكرت (ذلك له) (١) فقال: صل ركعتين ركعتين.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قیس کہتے ہیں کہ میں حضرت علقمہ سے ملا اور میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم دو دو رکعتیں پڑھ لو۔
حواشی
(١) في [ب]: (له ذلك).