مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
حدیث نمبر: 6907
٦٩٠٧ - حدثنا حفص عن حجاج عن طلق بن معاوية عن علقمة أنه سأله فقال: يصلي ركعتين ركعتين.مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ دو دو رکعتیں پڑھے۔