مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
حدیث نمبر: 6904
٦٩٠٤ - حدثنا حفص عن ابن جريج (١) عن عطاء عن ابن عباس قال: من أوتر أول الليل ثم قام فليصل ركعتين، ركعتين (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جو شخص رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھ لے اور پھر رات کو اٹھے تو دو دو رکعتیں پڑھے۔
حواشی
(١) في [ب] زيادة: (قال أما أنا فأوتر فإذا قمت صليت).
(٢) منقطع حكمًا، ابن جريج مدلس.