مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
حدیث نمبر: 6903
٦٩٠٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا حماد بن سلمة عن (بشر) (١) بن حرب (أبي) (٢) عمرو قال: سمعت رافع بن خديج قال: أما أنا فأوتر فإذا قمت صليت مثنى مثنى وتركت (وتري) (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ اگر میں وتر پڑھ کر سو جاؤں اور پھر اٹھ کر نماز پڑھوں تو میں دو دو رکعتیں پڑھوں گا اور پہلے پڑھے گئے وتروں کو اسی حال پر چھوڑ دوں گا۔
حواشی
(١) في [ك]: (تكرر).
(٢) في [هـ]: (بن).
(٣) في [ب]: (وتر).