مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
حدیث نمبر: 6902
٦٩٠٢ - حدثنا حفص عن يحيى بن سعيد عن (أبي) (١) بكر أنه كان يوتر أول الليل وكان إذا قام يصلي صلى ركعتين (ركعتين) (٢) وكان سعيد يفعله.مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھا کرتے تھے۔ پھر جب رات کو اٹھتے تو دو دو رکعتیں پڑھتے۔ حضرت سعید بھی یونہی کیا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [ك]: (ابن).
(٢) سقط من: [ك].