مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
حدیث نمبر: 6901
٦٩٠١ - حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي (جمرة) (١) عن ابن عباس (وعائذ) (٢) ابن عمرو قالا: إذا أوترت أول الليل فلا توتر آخره وإذا أوترت آخره فلا توتر أوله (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عائذ بن عمرو فرماتے ہیں کہ جب تم رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھ لو تو آخری حصے میں نہ پڑھو۔ جب رات کے آخری حصے میں وتر پڑھو تو رات کے ابتدائی حصہ میں نہ پڑھو۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ط]: (حمزة)، وانظر: التعديل والتجريح ٣/ ١٢٦٢ وفيه: (حمزة)، وفتح الباري ٧/ ٤٥٢ وفيه: (جمرة).
(٢) في [ب]: (عابد)، وفي [ك]: (عائذ).