مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
حدیث نمبر: 6900
٦٩٠٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا شعبة عن قتادة عن (خلاس) (١) بن عمرو (الهجري) (٢) عن عمار قال: أما أنا فأوتر فإذا قمت صليت مثنى مثنى وتركت وتري الأول كما هو (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار فرماتے ہیں کہ اگر میں وتر پڑھ کر سو جاؤں اور پھر اٹھ کر نماز پڑھوں تو میں دو دو رکعتیں پڑھوں گا اور پہلے پڑھے گئے وتروں کو اسی حال پر چھوڑ دوں گا۔
حواشی
(١) في [ب، ز]: (جلاس).
(٢) في [أ، ب، ك]: (البخستري).