مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
حدیث نمبر: 6899
٦٨٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن إبراهيم بن المهاجر عن كليب (الجرمي) (١) عن سعد قال: أما أنا فإذا أوترت ثم قمت صليت ركعتين ركعتين (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد فرماتے ہیں کہ اگر میں وتر پڑھ کر سو جاؤں اور پھر اٹھ کر نماز پڑھوں تو میں دو دو رکعتیں پڑھوں گا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ك]: (الحرمي).