مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الرجل يوتر ثم يقوم بعد ذلك باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت بنالے، پھر باقی نماز دو دو رکعتوں کے ساتھ پڑھے
حدیث نمبر: 6897
٦٨٩٧ - (حدثنا وكيع قال) (١): حدثنا سفيان عن أبي قيس الأودي (٢) عبد الرحمن بن (ثروان) (٣) قال: سألت عمرو بن ميمون عن الرجل يوتر (ثم يستيقظ) (٤) قال: يشفع بركعة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قیس اودی عبد الرحمن بن ثروان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرو بن میمون سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو رات کو وتر پڑھے اور پھر بیدار ہو تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک رکعت ساتھ ملائے۔
حواشی
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [ط، هـ]: زيادة (عن).
(٣) في [أ، ب]: (مروان).
(٤) في [أ]: (لم يستطع قط).