مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: يجعل الرجل (آخر) صلاته بالليل وترا باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ آدمی و تر کو رات کی آخری نماز بنائے
حدیث نمبر: 6874
٦٨٧٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد اللَّه بن محمد (بن) (١) عقيل عن جابر بن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ لأبي بكر: "متى توتر؟ " قال: من أول الليل (بعد) (٢) العتمة قبل أن أنام، (و) (٣) قال لعمر: "متى توتر؟ " قال: من آخر ⦗٤٦٩⦘ الليل، قال لأبي بكر: " (أخذت) (٤) (بالحزم) (٥) "، وقال لعمر: " (أخذت) (٦) بالقوة" (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے پوچھا کہ آپ وتر کب پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ عشاء کے بعد سونے سے پہلے رات کے ابتدائی حصے میں۔ پھر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے پوچھا کہ آپ وتر کب پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ رات کے آخری حصے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے فرمایا کہ آپ حزم پر عمل کرتے ہو اور حضرت عمر سے فرمایا کہ آپ قوت پر عمل کرتے ہو۔
حواشی
(١) في [ك]: (عن).
(٢) في [أ، ز، ك]: (معك).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) في [أ]: (أخذته).
(٥) في [أ]: (بالجزم)، وكذا في [ك].
(٦) في [أ]: (أخذته).