حدیث نمبر: 6873
٦٨٧٣ - حدثنا أبو معاوية وحفص عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من خاف أن (لا) (١) يقوم (٢) آخر الليل فليوتر (أول الليل) (٣) (ومن طمع أن يقوم آخر الليل فليوتر آخر الليل) (٤) فإن صلاة آخر الليل (٥) مشهودة"، (وقال: أبو معاوية) (٦) (محضورة) (٧) -وذلك فضل (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار نہیں ہوسکے گا۔ اسے چاہئے کہ وہ رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لے۔ جسے یقین ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں جاگ جائے گا وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے۔ کیونکہ یہ وقت حضوری کی نماز کا ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [ب]: زيادة (من).
(٣) في [أ، ب]: (آخر الليل)، وفي [ك، ز]: (أوله).
(٤) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٥) في [ب] زيادة: (صلاة).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) في [أ]: (محصورة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6873
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه مسلم (٧٥٥)، وأحمد (١٤٣٨١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6873، ترقيم محمد عوامة 6771)