حدیث نمبر: 6839
٦٨٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن حسين المكتب (عن عمرو ابن شعيب) (١) عن سليمان بن يسار قال: أتيت على ابن عمر وهو جالس على البلاط قال: وناس يصلون فقلنا يا أبا عبد الرحمن: ألا تصلي؟ فقال: إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "لا (تصل) (٢) صلاة في يوم مرتين؟ " (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا وہ مسجد اور بازار کے درمیان ایک جگہ بیٹھے تھے اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے ان سے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن ! آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک نماز ایک دن میں دو مرتبہ نہیں پڑھی جائے گی۔

حواشی
(١) في [هـ]: (فراغ).
(٢) في [ك]: (فصلى)، وفي [هـ]: (تصلي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6839
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ عمرو ثقة، أخرجه أحمد (٤٦٨٩)، وأبو داود (٥٧٩)، وابن خزيمة (١٦٤١)، وابن حبان (٢٣٩٦)، والدارقطني ١/ ٤١٥، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ٣٨٥، والطبراني (١٣٢٧٠)، والبيهقي ٢/ ٣٠٣، وابن عبد البر في التمهيد ٤/ ٢٤٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6839، ترقيم محمد عوامة 6738)