حدیث نمبر: 6828
٦٨٢٨ - حدثنا حفص عن عاصم عن بكر بن عبد اللَّه المزني قال: سئل ابن عباس عن ثلاثة صلوا العصر ثم مروا بمسجد فدخل أحدهم فصلى، ومضى واحد، وجلس واحد على الباب (فقال) (١) ابن عباس: أما الذي صلى فزاد (خيرًا) (٢) إلى خير وأما الذي مضى فمضى لحاجته، وأما الذي جلس على الباب (فهو أخسهم) (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر بن عبد اللہ مزنی کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے تین آدمیوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ انہوں نے عصر کی نماز پڑھی، پھر مسجد کے پاس سے گذرے تو ایک آدمی نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، دوسرا آگے چلا گیا اور تیسرا مسجد کے دروازے کے پاس بیٹھ گاے، ان تینوں کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جس نے ان کے ساتھ نماز پڑھی اس نے خیر بالائے خیر حاصل کی، جو آگے چلا گیا وہ اپنی ضرورت کے لئے چلا گیا اور جو مسجد کے دروازے پر بیٹھ گیا اس نے بےحیثیت اور معمولی کام کیا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ك]: (قال).
(٢) في [أ، ز]: (خير).
(٣) في [أ، ز]: (فأخسهم).