حدیث نمبر: 6825
٦٨٢٥ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن أنس قال: كان النعمان بن مقرن على جند أهل الكوفة، وأبو موسى الأشعري على جند (أهل) (١) البصرة، وكنت بينهما فاتعدا أن يلتقيا (عندي) (٢) (غدوة) (٣) فصلى أحدهما صلاة (الغداة) (٤) بأصحابه ثم جاء وأنا أصلي فصلى معي (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نعمان بن مقرن اہل کوفہ کے لشکر کے امیر تھے اور ابو موسیٰ اشعری اہل بصرہ کے لشکر کے امیر تھے۔ میں ان دونوں کے درمیان تھا۔ ان دونوں نے مجھ سے وقت مقرر کیا صبح کے وقت دونوں میرے پاس جمع ہوگئے۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھیوں کو فجر کی نماز پڑھائی اور جب میرے پاس آئے تو میں نماز پڑھا رہا تھا۔ انہوں نے آکر میرے ساتھ بھی نماز پڑھی۔
حواشی
(١) في [ب] زيادة: (أهل).
(٢) في [ب]: (عند).
(٣) في [أ]: (عروة)، وفي [ز، ك]: (غزوة).
(٤) في [ب]: (الغد).