مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
يصلي في بيته ثم يدرك جماعة باب: اگر کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر سے جماعت کی نماز جائے تو وہ کیا کرے؟
٦٨٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: (أخبرنا) (١) يعلى بن عطاء قال: ⦗٤٥٢⦘ حدثني جابر بن (يزيد) (٢) (بن) (٣) الأسود العامري عن أبيه قال: شهدت مع رسول اللَّه ﷺ حجته (قال) (٤): فصليت معه الغداة في مسجد الخيف فلما قضى صلاته وانحرف (إذا) (٥) هو برجلين في آخر القوم لم يصليا معه قال: فقال عليّ: (بهما) (٦) فأتي بهما (ترعد) (٧) فرائصهما فقال: "ما منعكما أن تصليا معنا؟ " فقالا: يا رسول اللَّه كنا قد صلينا في رحالنا قال: "فلا تفعلا، إذا صليتما في رحالكما ثم أتيتما مسجد جماعة فصليا معهم (فإنها) (٨) لكما نافلة" (٩).حضرت یزید بن اسود عامری کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کے حج کے موقع پر موجود تھا۔ میں نے مسجدِ خیف میں آپ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ جب آپ نے نماز مکمل فرمالی اور قبلے سے رخ پھیرا تو لوگوں کے آخر میں دو آدمی ایسے تھے جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز نہ پڑھی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ ان دونوں کو میرے پاس لے آؤ۔ جب انہیں حاضر خدمت کیا گیا تو وہ دونوں کانپ رہے تھے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ ان دونوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہم نے اپنے کجاو وں میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، جب تم اپنے کجاو وں میں نماز پڑھ لو اور پھر کسی ایسی مسجد میں آؤ جہاں نماز ہورہی ہو تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھو۔ وہ نماز تمہارے لئے نفل بن جائے گی۔