مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: صل فيها قائما باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ کشتی میں کھڑے ہو کر نماز پڑھو
٦٧٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن حميد قال: سئل أنس عن الصلاة في السفينة فقال عبد اللَّه بن أبي عتبة (مولى) (١) أنس وهو معنا جالس: سافرت مع أبي سعيد الخدري وأبي الدرداء وجابر بن عبد اللَّه قال: حميد وأناس قد سماهم فكان إمامنا يصلي بنا (٢) في السفينة قائمًا و (٣) نصلي (خلفه) (٤) قيامًا ولو شئنا لأرفأنا وخرجنا (٥).حضرت حمید فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کشتی میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو حضرت انس کے مولی عبد اللہ بن ابی عتبہ جو کہ ہمارے ساتھ بیٹھے تھے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو الدرداء اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا ہے (حضرت حمید کہتے ہیں کہ انہوں نے کچھ دوسرے لوگوں کا بھی ذکر کیا) ہمارا امام ہمیں کشتی میں کھڑے ہوکر نماز پڑھاتا تھا اور ہم اس کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تھے، بعض اوقات اگر کشتی ساحل کے قریب ہوتی تو ہم ساحل پر اتر کر نماز پڑھ لیتے۔