حدیث نمبر: 6640
٦٦٤٠ - حدثنا ابن إدريس عن الحسن بن (عبيد) (١) اللَّه عن إبراهيم أنه كره أن (يسدل) (٢) ثوبه في الصلاة.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے نماز میں سدل کو مکروہ قرار دیا ہے۔ ( ابن الاثیر النھایہ (٢/٣٥٥) میں فرماتے ہیں کہ سدل سے مراد یہ ہے کہ کپڑے کو اس طرح اوڑھے کہ اپنے ہاتھ اس کے اندرونی حصے میں داخل کردے اور اسی طرح رکوع و سجود کرے۔ ایک قول کے مطابق سدل سے مراد یہ ہے کہ ازار کے درمیانی حصے کو سر پر رکھے اور اس کے کناروں کو کندھوں پر رکھنے کے بجائے دائیں بائیں لٹکادے۔ )
حواشی
(١) في [هـ]: (عبد).
(٢) في [أ]: (يسدلوا).