حدیث نمبر: 6617
٦٦١٧ - حدثنا أبو الأحوص عن طارق عن عاصم (بن) (١) عمرو أن نفرًا من أهل العراق قدموا على عمر فسألوه عن صلاة الرجل في بيته فقال عمر: ما سألني عنها أحد (مذ) (٢) سألت رسول اللَّه ﷺ عنها فقال: "صلاة الرجل في بيته نور فنوروا بيوتكم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عاصم بن عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس عراق کے کچھ لوگ آئے۔ انہوں نے گھر میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا ہے اس کے بعد سے کسی نے مجھ سے اس بارے میں نہیں پوچھا، آپ نے فرمایا تھا کہ آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا اس کے لئے نور ہے۔ ( حضرت عمر فرماتے ہیں کہ) اپنے گھروں کو منور کرو۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (عن).
(٢) في [ط، هـ]: (منذ).
(٣) منقطع؛ عاصم لم يسمع من عمر، أخرجه أحمد (٨٦)، والطحاوي ٣/ ٣٧، والبيهقي ١/ ٣١٢، وعبد الرزاق (٩٨٨)، والطيالسي (٤٩)، وسعيد بن منصور (٢١٤٣)، ومن طريق المؤلف ابن ماجة (١٣٧٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6617
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6617، ترقيم محمد عوامة 6521)