مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في ركعتي الفجر إذا فاتته باب: فجر کی سنتیں چھوٹ جائیں تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 6602
٦٦٠٢ - حدثنا وكيع عن فضيل (١) بن غزوان عن نافع عن ابن عمر أنه جاء إلى القوم وهم في الصلاة ولم يكن صلى الركعتين فدخل معهم ثم جلس في مصلاه فلما أضحى قام (فقضاهما) (٢) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ فجر کی نماز کے وقت آئے تو لوگ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے ابھی تک فجر کی سنتیں نہیں پڑھی تھیں۔ آپ جماعت کے ساتھ شامل ہوگئے، پھر نماز کی جگہ بیٹھے رہے اور چاشت کے وقت ان رکعتوں کی قضا کی۔
حواشی
(١) في [أ، ك، هـ]: زيادة (عن).
(٢) في [أ، ب]: (فصلاهما).