مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الرجل يشتكى عينيه فيوصف له أن يستلقي باب: اگر کسی آدمی کی آنکھوں میں تکلیف ہو اور اسے سیدھا لیٹ کر نماز پڑھنے کو کہا جائے
حدیث نمبر: 6433
٦٤٣٣ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن جابر عن أبي الضحى أن ابن عباس (وقع) (١) في (عينيه) (٢) الماء فقيل (له) (٣): (تستلقي) (٤) سبعًا ولا تصلي إلا مستلقيًا، فبعث إلى عائشة وأم سلمة فسألهما (فنهتاه) (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ضحی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی آنکھوں میں پانی اتر آیا، ان سے کہا گیا کہ آپ کو سات دن تک لیٹ کر نما زپڑھنی ہوگی۔ انہوں نے اس بارے میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام المؤمنین حضرت ام سلمہ سے استفسار فرمایا تو ان دونوں نے انہیں منع کردیا۔
حواشی
(١) في [ط، هـ]: (أوقع).
(٢) في [أ، ب]: (عينه).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (أتستلقي).
(٥) في [أ، ز]: (فنهياه).