مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الرجل يشتكى عينيه فيوصف له أن يستلقي باب: اگر کسی آدمی کی آنکھوں میں تکلیف ہو اور اسے سیدھا لیٹ کر نماز پڑھنے کو کہا جائے
٦٤٣٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن المسيب بن رافع عن ابن عباس قال: لما (كف) (١) بصره أتاه رجل فقال (٢) له: إن صبرت لي ⦗٣٦٨⦘ (سبعًا) (٣) لا تصلي إلا مستلقيًا داويتك (و) (٤) رجوت أن تبرأ (عيناك) (٥)، قال: فأرسل ابن عباس إلى عائشة وأبي هريرة وغيرهما من (أصحاب محمد ﷺ) (٦) قال: (فكلهم) (٧) (يقول) (٨): أرأيت إن مت في هذه السبع كيف تصنع بالصلاة؟ قال: فترك عينيه (٩) (لم يداوها) (١٠) (١١).حضرت مسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی ختم ہوگئی تو ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اگر آپ سات دن تک لیٹ کر نماز پڑھنے پر صبر کرلیں تو میں آپ کا علاج کرسکتا ہوں، مجھے امید ہے کہ آپ کی آنکھیں ٹھیک ہوجائیں گی۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ابوہریرہ اور دوسرے صحابہ کرام کے پاس آدمی بھیج کر ان سے مشورہ کیا۔ سب نے یہی فرمایا کہ اگر ان سات دنوں میں آپ کا انتقال ہوگیا تو آپ کی نمازوں کا کیا ہوگا ؟ اس پر انہوں نے اپنی آنکھوں کا علاج نہ کروایا۔