حدیث نمبر: 6432
٦٤٣٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن المسيب بن رافع عن ابن عباس قال: لما (كف) (١) بصره أتاه رجل فقال (٢) له: إن صبرت لي ⦗٣٦٨⦘ (سبعًا) (٣) لا تصلي إلا مستلقيًا داويتك (و) (٤) رجوت أن تبرأ (عيناك) (٥)، قال: فأرسل ابن عباس إلى عائشة وأبي هريرة وغيرهما من (أصحاب محمد ﷺ) (٦) قال: (فكلهم) (٧) (يقول) (٨): أرأيت إن مت في هذه السبع كيف تصنع بالصلاة؟ قال: فترك عينيه (٩) (لم يداوها) (١٠) (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی ختم ہوگئی تو ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اگر آپ سات دن تک لیٹ کر نماز پڑھنے پر صبر کرلیں تو میں آپ کا علاج کرسکتا ہوں، مجھے امید ہے کہ آپ کی آنکھیں ٹھیک ہوجائیں گی۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ابوہریرہ اور دوسرے صحابہ کرام کے پاس آدمی بھیج کر ان سے مشورہ کیا۔ سب نے یہی فرمایا کہ اگر ان سات دنوں میں آپ کا انتقال ہوگیا تو آپ کی نمازوں کا کیا ہوگا ؟ اس پر انہوں نے اپنی آنکھوں کا علاج نہ کروایا۔

حواشی
(١) في [أ]: (لمكاف).
(٢) في [هـ]: زيادة (إن داويتك).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) سقط من: [أ، ب، ك، ز].
(٥) في [جـ، س]: (عينك).
(٦) في [ز]: (الصحابة).
(٧) في [أ، ب، هـ]: (كلهم).
(٨) في [هـ]: (يقولون).
(٩) كذا في: [ز، هـ]: وفي بقية النسخ: (عينه).
(١٠) في [جـ، ز]: (فلم يداوها)، وفي [أ، ب، ك]: (لم يداوها)، وفي [هـ]: (لم يك يداوها).
(١١) منقطع؛ المسيب لا يروي عن ابن عباس.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6432
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6432، ترقيم محمد عوامة 6343)