مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
ما رخص فيه من ترك الجماعة باب: جن حالات میں جماعت کی نماز چھوڑنے کی اجازت ہے
حدیث نمبر: 6410
٦٤١٠ - حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة عن (أبي) (١) المليح قال: ⦗٣٦٢⦘ خرجت (ذات) (٢) ليلة (مطيرة) (٣) إلى المسجد فلما ركعت استفتحت قال أبي: من هذا (قالوا) (٤): أبو المليح قال: لقد رأيتنا مع رسول اللَّه ﷺ يوم الحديبية وأصابتنا سماء لم تبل أسافل نعالنا فنادى منادي رسول اللَّه ﷺ أن صلوا في رحالكم (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ملیح فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بارانی رات میں میں نماز کے لئے مسجد میں گیا، واپس آ کر میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو والد صاحب نے پوچھا کون ہے ؟ گھر والوں نے بتایا کہ ابو ملیح ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔ اتنے میں بارش ہوئی جو اتنی تھی کہ ہمارے جوتوں کے تلوے گیلے نہیں ہوئے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک منادی نے اعلان کیا کہ اپنے کجاو وں میں نماز پڑھ لو۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) سقط من: [ك].
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [ب]: (قال).